Seena-Ba-Seena-95 93

سینہ بہ سینہ 95

سینہ بہ سینہ قسط 95

دوستو، ہمیشہ یہ ہوتا آیا ہے کہ جب بھی آپ کا فیوریٹ سینہ بہ سینہ کی تازہ قسط پوسٹ ہوتی ہے تو وہ ایک ہفتے تک وائرل ہوتی رہتی ہے، کچھ تو سوشل میڈیا پہ شیئر کرتے ہیں، کچھ واٹس ایپ گروپوں میں اور کچھ ویب سائیٹس اس میں سے خبریں نکال نکال کرلگاتی رہتی ہیں، اس طرح کسی بھی سینہ بہ سینہ کا فیڈ بیک مجھے ایک ہفتے میں ملتا ہے، اب چونکہ آپ سے وعدہ کیا ہے کہ لگاتار تین قسطیں دینے کا اس لئے ان کے فیڈبیک اگلے پندرہ روز تک ملتے رہیں گے۔۔سینہ بہ سینہ ہویا  میڈیا انڈسٹری میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی  ویب سائیٹ عمران جونیئر ڈاٹ کام ، الحمدللہ تمام میڈیا ہاؤسز ہر خبر کا نوٹس لیتے ہیں اور اس پر ایکشن بھی دیکھنے میں آتا ہے۔۔ ایسی درجنوں مثالیں آپ کو دے سکتا ہوں جب  ہماری دی گئی خبروں پر ایکشن لیا گیا، خود میڈیا ورکرز گواہ ہیں کہ ہماری خبروں پر کس طرح انتظامیہ حرکت میں آتی ہے۔۔خیر وہ ساری باتیں کرکے آپ کو بور نہیں کرنا چاہتا۔۔ چلیں جلدی جلدی پپو کی مزید مخبریاں بھی سن لیں جو پچھلی بار بتانے سے رہ گئی تھیں۔۔

پچھلی قسط میں آپ کو بتایا تھا کہ بول انتظامیہ کس  طرح عمران جونیئر سے خوفزدہ ہے اور عمران جونیئر کے کراچی پہنچنے کی اطلاعات پر اپنے ورکرز کو اس کی جاسوسی پر لگانے کی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔۔ اسی طرح کچھ چینلز ہماری ویب سائیٹ سے بھی خوفزدہ ہیں ،حالانکہ ڈرنے والی کوئی بات نہیں، اگر آپ غلط نہیں تو پھر کیسا ڈرنا، لیکن اگر آپ ڈرتے ہیں تو پھر یہ ثابت ہوتا ہے  کہ دال میں ضرور کالا ہے۔۔ اب تک نیوز کے پروگرام  آمنے سامنے کے ایک ایسوسی ایٹ پرڈیوسر (نام اس لئے نہیں لکھ رہا کہ بیچارے کو فیوچر میں کوئی پرابلم نہ ہوں لیکن ابتک نیوز کے ورکرز سمجھ رہے ہیں کس کی بات ہورہی ہے) کو پندرہ فروری بروز جمعرات ادارے کے ایم ڈی کے کہنے پر صرف اس لئے نوکری سے نکال دیاگیا کہ اس نے اپنی فیس بک کے پرسنل اکاؤنٹ پر ایک میڈیا جاب کا اشتہار شیئر کیا تھا، ( یہ اشتہار ہماری ویب سائیٹ نے دیا تھا، جی این این میں ملازمتوں کے حوالے سے)۔۔شیئرنگ کے ساتھ ہی مذکورہ ایسوسی ایٹ پرڈیوسر کو ایچ آر نے شوکازدیا، جس پر اس نے وضاحت دی بتایا کہ اس پوسٹ کو شیئر کرنے کا مقصدنیک نیتی تھی تاکہ کوئی بیروزگار دوست جاب حاصل کرسکے ، معافی مانگی اور پوسٹ بھی ڈیلیٹ کردی اور یقین دہانی بھی کرائی کہ آئندہ سوشل میڈیا پر مزید احتیاط برتوں گا لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی اور رات آٹھ بجے اسے فوری برطرف کردیاگیا۔۔ اگر کسی میڈیا ہاؤس میں  کوئی اسامی ہوتی ہے تو بطور میڈیا ورکرز ہم اسے سوشل میڈیا پر دیتے ہیں تاکہ ہمارے بیروزگار دوست فائدہ اٹھاسکیں۔۔ہماری ویب سائیٹ یہ کام شروع دن سے کررہی ہے اور الحمدللہ یہ اعزاز بھی صرف ہمیں ہی حاصل ہے کہ ہماری ویب سائیٹ نے میڈیا میں نوکریوں کا سلسلہ  شیئر کرنا شروع کیا  تو اب تک کئی لوگ روزگار پر بھی لگ چکے ہیں۔۔آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اب تک نیوز انتظامیہ نے اپنے ورکرکو صرف اس بات پر برطرف کردیا کہ اس نے میڈیا جاب کی پوسٹ کیوں کی۔۔ جی نہیں۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ اصل میں ابتک نیوز انتظامیہ ہماری ویب سائیٹ پر لگنے والی خبروں سے شدید خوفزدہ ہے۔۔ ایچ آر کی خاتون ذمہ دار کو بڑی شدت سے تلاش ہے کہ وہ کون ہے جو ابتک نیوزکی اندر کی خبریں پپو بن کر دے رہا ہے۔۔ پپو نےافسردگی سے بتایا کہ یہ بیچارہ بھی پوسٹ شیئرنگ کے بہانے کی آڑ میں صرف اس لئے برطرف کیاگیاکہ انہیں شک تھا کہ کہیں یہی تو عمران جونیئر کا پپو نہیں۔۔پپو کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ادارہ اپنی ساکھ خود ہی خراب کررہا ہے ، پپو اتنی آسانی سے ہاتھ آنے والا نہیں، آپ اپنے ملازمین کو ایک ایک کرکے نکالتے رہیں،یہاں تک کہ ایم ڈی صاحب اور ایچ آر کی خاتون ذمہ دار ہی  چینل میں باقی رہ جائیں پھر بھی پپو یہاں کی خبریں دینے کی صلاحیت رکھتا   ہے۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ ایم ڈی صاحب ہمارے بدترین ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، جس کی بظاہر یہی وجہ ہے کہ ہم نے ابتک نیوز میں خواتین ورکرز کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک، ہراسمنٹ سمیت دیگر ورکرز کے ساتھ ہونے والے استحصال کو بے نقاب کیا۔پپو کے مطابق

 ایم ڈی کی جانب سے ابتک نیوز میں ہی ہماری ویب سائیٹ اور ویب پیچ کو بلاک کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔۔ جس کے لئے آئی ٹی ایکسپرٹس کی ہائرنگ کا فیصلہ کیاگیا ہے۔۔ساتھ ہی ابتک نیوز کے تمام ورکرز کا سوشل میڈیا بھی مانیٹرنگ پر لگادیاگیا ہے تاکہ ہماری ویب اور نیوز پڑھنے اور دیکھنے والوں کاپتہ لگایاجاسکے۔۔یہ سب کچھ ہمارے لئے نیا نہیں۔۔ ایسا تو  عرصے سے ہوتا آرہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔۔

ابتک نیوز کے حوالے سے پپو نے ایک انکشاف اور کیا ہے، اس کے پروگرام خفیہ کی ایک اور وڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹیم خفیہ کا ایک اہلکار جوپیزا ہاؤس میں خاموشی سے کچھ رکھ رہا ہے اور محترمہ اینکر صاحبہ تیر کی طرح اسی جگہ جاتی ہیں اور وہ چیز برآمد کرکے دکھاتی ہیں۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ پیزامیکس نے اپنے وکلا کے ذریعے پروگرام اور چینل کے ایم ڈی کو قانونی نوٹس بھیجا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ ان کے اس اقدام سے پیزامیکس کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔اس پروگرام کے حوالے سے پہلے بھی کچھ تنازعات سامنے آئے تھے جسے اثرورسوخ کی وجہ سے دبادیاگیا تھا۔۔ اب پیزے والی وڈیو بتارہی ہے کہ دال میں کالا بدستو ر ہے ۔۔

 اب بات ہوجائے ایسے کنٹرولر کی جس نے پورے چینل کے ورکر ز کی ناک میں دم کرکے رکھا ہوا ہے۔۔ بطور کارکن میرا یہ کہنا ہے کہ ہر کارکن یا ملازم کی ایک عزت نفس ہوتی ہے، اگر میرے ساتھ کوئی بدتمیزی کرے گا، گالم گلوچ کرے گا یا پھر ناروا سلوک کرے گا تو میری عزت نفس متاثر ہوگی ، اسی لئے میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے،اور ایسی کسی بھی شکایت کا میں نوٹس بھی لیتا ہوں، پپو نے اس بار سچ ٹی وی کے حوالے سے کافی کچھ مخبریاں کی ہیں۔۔یہاں ایک کنٹرولر صاحب ہوتے ہیں جو جب لاہور کے ایک چینل میں تھے تو اچھے دوست تھے اب اسلام آباد گئے ہوئے سال ہوگیا اس لئے میرے تو قطعی علم میں نہیں کہ وہاں ان کی کیا سرگرمیاں ہیں لیکن پپو کی تو ہر چینل پہ نظر ہوتی ہے ، جب اس نے کنٹرولر سچ ٹی وی کے متعلق مخبریاں کیں تو میں نے اسے سنادیں۔۔ پپو کو کہا ۔۔یار تم نے پچھلی بار بول میں میرے دوستوں کے خلاف مخبریاں کیں اس بار تم سچ ٹی وی میں میرے دوست کے خلاف مخبریاں دے رہے ہو،جس پر پپو نے صرف ایک بات کی۔۔ کہنے لگا۔۔ یار اگر دوستیاں رکھنی ہیں تو پھر یہ ویب سائیٹ بند کرو اور گوشہ نشینی اختیار کرلو۔۔کیا ضرورت ہے ورکرز کے لئے آواز بلند کرنے کی، ان کے حقوق کی بات کرنے کی۔۔ پپو کی بات سن کر سانپ سونگھ گیا،مزید کوئی سوال نہیں کیا کیونکہ مجھے اندازہ ہے کہ پپو کے پاس ہر بات کا جواب ہوتا ہے،اور ہر جواب کے پیچھے اس کی اپنی ہی ” خودساختہ لاجک” ہوتی ہے۔۔ پپو نے سچ ٹی وی سے متعلق مخبریوں میں بتایا کہ ۔۔۔کنٹرولر صاحب ایک سال پہلے لاہور کے ایک چینل پہ کام کرتے تھے جس کے بعد وہ ترقی کرکے اسلام آباد میں سچ ٹی وی آگئے،پپو کا کہنا ہے کہ اس کے پاس 24 نیوز اور کیپٹل ٹی وی کے ایف ٹی پی ایڈریسز بھی ہیں جہاں سے وہ اپنے چینل کے لئے فوٹیجز اٹھاتا ہے۔۔ہر گروپ میں اپنا نام ڈلواتا ہے۔۔سچ ٹی وی میں اس نے ایک نرالا حکم یہ صادر کیا ہے کہ  تمام رپورٹرز صبح صبح آٹھ بجے پہلے آفس آئیں،آکر انگوٹھا لگاکربائیومیٹرک حاضری لگائیں، گروپ میں بتائیں کہ ،حاضر جناب دفترپہنچ چکا ہوں۔۔پپو کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ سچ ٹی وی کا دفتر چٹھہ بختاور میں ہے جو اسلام آباد شہر سے تقریبا دس سے بارہ کلومیٹر سے زائد بنتا ہے۔۔صبح آٹھ بجے رپورٹرز کو بلوانے کا کیا مقصد ہے پپو نے اس بارے میں تو کچھ نہیں بتایا لیکن یہ بتایا کہ پہلا بلیٹن دوپہر بارہ بجے ہوتا ہے۔۔۔نو اور گیارہ والے بلیٹن ختم کئے جاچکے ہیں۔۔۔جب کہ خود بارہ بجے کے بعد ہی آتا ہے۔۔ پپو کامزید کہنا ہے کہ موصوف چھٹی کسی کو نہیں دیتے، وہاں کام کرنے والوں سے بدتمیزی ٹوٹ کرکرتے ہیں اور گالیاں بھی نکالتے ہیں۔۔پپو کے مطابق یہ صاحب مختلف نیوز گروپوں سے لے کر سچ ٹی وی کے واٹس ایپ گروپوں میں وہ نیوز ڈال کر وہی خبریں مانگتے ہیں اور پھر رپورٹرز کی تذلیل کرتے ہیں۔۔پپو نے ان کی بدتمیزیوں کے لاتعداد واقعات بھی بیان کئے، جو سب یہاں بیان کئے تو یہ والا سینہ بہ سینہ بھی سچ نامہ بن کر رہ جائے گا۔۔ پپو نے بتایا کہ ۔۔ ایک رپورٹرز سے وائس اوور روم میں جاکر اسکرپٹ چھین لیا اور پورے نیوزروم کے سامنے وہ اسکرپٹ پھاڑ دیا۔۔۔پپو نے مخبریوں میں “چس” ڈالتے ہوئے بتایا کہ ، موصوف کا ایک خاتون رپورٹر سے بھی چکر بہت زور کا چل رہا ہے، جس کے گواہ تمام سچ ٹی وی ملازمین ہیں۔۔پپو کے مطابق وہ محترمہ کچھ ماہ قبل ہی آئی ہیں،اس “چکر” کی ہوا “انتظامیہ ” کو بھی پہنچ چکی ہے،دفتر میں بھی سب زیرلب اسی چکر کی وجہ سے گھن چکر بنے رہتے ہیں۔۔اس چکر کےحوالے سے پپو نے مزید کئی مخبریاں بھی کیں، لیکن میرے خیال میں صرف اتنا ہی کافی ہے کیوں کہ مزید باتیں لکھنا مناسب نہیں خاتون رپورٹر کا معاملہ ہے ،محترمہ کو بھی سوچنا چاہیئے کہ شارٹ کٹ کے بجائے اپنی محنت اور صلاحیتوں پر اعتماد کریں۔۔شارٹ کٹ والی کامیابی پانی کے بلبلے کی طرح وقتی ہوتی ہے ۔۔پپو نے مزید بتایا کہ موصوف کی وجہ سے کئی لوگ پچھلے ایک سال میں ادارہ چھوڑ کے جاچکے ہیں۔اب یہ حال ہوگیا ہے کہ بلیٹن کرانے کے لئے بھی کارکنوں کی مطلوبہ تعداد دستیاب نہیں ہوتی۔۔کبھی تو یہ حال ہوتا ہے کہ صرف لوگ ہی پورا بلیٹن کراتے ہیں ایک رن ڈاؤن پہ ہوتا ہے تو دوسرا ہیڈلائن پر۔۔۔موصوف کے ایک چہیتے شفٹ انچارج بھی ہیں جن کے متعلق بھی وہاں کارکنوں کو کافی شکایتیں پائی جاتی ہیں کیونکہ وہ بھی اسی کے نقش قدم پر رواں دواں ہے۔۔جس کی وجہ سے سچ ٹی وی کے کارکنان ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔۔۔پپو نے مزید بھی بہت کچھ بتایا ہے لیکن فی الحال اتنا ہی کافی ہے،مجھے یہ سب لکھتے ہوئے اچھا نہیں لگ رہا، لیکن پپو کو ناراض بھی نہیں کرسکتا، اگر میرے دوست کو اس حوالے سے یعنی پپو کی مخبریوں سے اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف مجھے دے سکتا ہے، میں ضرور اسے بھی سینہ بہ سینہ کا حصہ بناؤں گا۔۔

جب اسلام آباد کے چینل کی بات ہورہی ہے تو پھر پپو کو ہم نیوز کا بھی چکر لگانے سے کون روک سکتا ہے۔۔ پپو نے ہم نیوز کے حوالے سے بہت ہی اہم انکشافات کئے ہیں۔۔اب چونکہ یہ پپو کی مخبریاں ہیں اس لئے کسی کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔۔ لیکن میں تو اپنے پپو کی ہر مخبری سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کیوں کہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پپو مجھ سے غلط بیانی قطعی نہیں کرسکتا۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز طور پر ہم نیوز ابھی تک عارضی جگہ پر ہی کام کررہا ہے اور اس کا دفتر تیاریوں کے مراحل میں ہے،کہاجارہا ہے کہ پیر  چھبیس فروری سے  شاید شفٹک  شروع ہوجائے، یہ بھی کہاجارہا ہے کہ تئیس مارچ کو چینل لانچ ہوجائے گا لیکن پپو کا کہنا ہے کہ حالات و واقعات سے تو نہیں لگتا کہ چینل اگلے ماہ لانچ ہوسکے۔۔ کیوں کہ چینل کے زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں۔۔ پپو نے انتہائی مصدقہ ذرائع سے تصدیق کے بعد بتایا کہ ندیم رضا صاحب کے ہم نیوزانتظامیہ کے ساتھ معاملات بہتر نہیں چل رہے۔۔ کراچی میں اپنی پسند کے بیوروچیف رکھنے پرانہیں تنبہیہ بھی کی جاچکی ہے اور انہیں یاددہانی کرائی گئی ہے کہ اہم پوسٹوں پر بھرتیاں”انتظامیہ” ہی کرے گی۔۔دوسری طرف پپو نے ہم نیوز انتظامیہ (ہیڈآفس کراچی) اور ہم اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان  رابطے کے ایک “بلنڈر” کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ۔۔ ہم نیوزکراچی بیورومیں دو خواتین این ایل یز کو رکھا گیا۔۔ دونوں کا نام میں یہاں نہیں لکھ رہا لیکن دونوں کا نام “میم” سے شروع ہوتا ہے،  پپو کے مطابق ایک خاتون این ایل ای کا کہنا ہے کہ وہ بینک میں ملازمت کرتی تھی اس نے بھی یہاں اپلائی کردیا اور اسے بینک سے دگنی تنخواہ پر رکھ لیا گیا۔۔ اسی طرح دوسری این ایل ای کا حال تھا،  ان بیچاریوں کو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ این ایل ای چینل میں کرتا کیا ہے، اور این ایل ای کہتے کسے ہیں ؟  کہا گیا کہ آپ کام سیکھ لیں گے کام تو شروع کریں، پھر جب اسلام آباد میں ٹریننگ کے لئے کراچی سے لوگوں کو بھیجا گیا تو ساتھ ہی سب کو کہاگیا کہ جو ٹریننگ نہیں کرے گا وہ ہم نیوز میں نہیں رہے گا۔۔ ایک محترمہ تو اسلام آباد آئی ہی نہیں۔۔ دوسری ٹریننگ کے لئے گئی، پھر ایک دوروز میں ہی پنڈی میں اپنے سسرال والوں کے گھر شفٹ ہوگئی اور ایک دن تو کیا ایک گھنٹے کی بھی ٹریننگ نہیں کی۔۔وہاں سے محترمہ واپس کراچی چلی گئیں۔۔ جب سب لوگ ٹریننگ سے واپس کراچی پہنچے تو جوائننگ لسٹ میں دونوں محترماؤں کا بھی نام تھا، جس پر کراچی انتظامیہ کو حقیقت بتائی گئی، جب انہوں نے اسلام آباد انتظامیہ سے رابطے کرکے تصدیق چاہی تو انہیں یہ تک نہیں پتہ تھا کہ یہ محترمائیں بھی ٹریننگ کیلئے آنی تھیں۔۔ جس سے رابطوں کے شدید فقدان اور ان کے کام کے معیار کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔۔پپو نے دعوی کیا ہے کہ ندیم رضا صاحب جلد ہی ادارے کو خیرباد کہہ سکتے ہیں ،جس کی وجوہات بتاتے ہوئے پپو کا کہنا ہے کہ ایک تو عامر ضیا صاحب آگئے،جو ان سے کافی سینئر ہیں، دوسرا یہ کہ خود ندیم رضا صاحب کے چہیتے جنہیں وہ مختلف چینلز سے توڑ کر اسلام آباد میں لے گئے اپنے حلقوں میں شدید بیزاری ظاہر کررہے ہیں اور یہ دعوے کرتے پھررہے ہیں کہ ندیم رضا صاحب جلد ہم نیوز چھوڑ دیں گے ۔۔پپو سے جب ہم نے اصل بات جاننی چاہی تو پپو نے ہمارے سوال کو گول کرتے ہوئے ایک اور موضوع چھیڑ دیا۔۔ کہنے لگے۔۔ ہم نیوز کااسلام آباد سے آن ائر نہیں ہوگا بلکہ لاہور یا کراچی شفٹ ہوجائے گا۔۔ اس سلسلے میں ہم نیوز کی ہائی کمان بہت سنجیدگی سے کسی فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔۔ پپو نے یہ بھی بتایا کہ دنیانیوزکے پروگرامنگ ہیڈ نےہم نیوز جوائن کیا ہے جس کے بعد اب  پہلے سے موجود صاحب  کے لئے خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔۔ پپو نے ہم نیوز کے حوالے سے  یہ دلچسپ مخبری بھی دی کہ ہم نیوز میں رپورٹر رکھنے کی شرائط یہ ہے کہ وہ پچیس سال سے چالیس سال کا ہو، دیکھنے میں خوبصورت نظر آتا ہو۔۔ باقی تجربہ ،قابلیت اور صلاحیت جائے بھاڑ میں۔۔پپو کے مطابق ہم نیوز نے “پپو رپورٹرز” رکھنے کا فیصلہ کرکے اس پر عمل درآمد بھی شروع کردیا ہے۔۔اور کئی سینئرتجربہ کار رپورٹرز کو صرف اس لئے مسترد کردیا کہ  وہ “پپو” نظر نہیں آتے تھے۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں ہم نیوزمیں کیا تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔۔

اب ذرا کراچی پولیس اور کراچی کے صحافیوں کے درمیان تعلقات کی بھی کچھ بات ہوجائے۔۔ روپوش  سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے چہیتے رپورٹرز کون کون تھے یہ کراچی میں کرائم رپورٹرز اچھی طرح جانتے ہیں، پپو نے مجھے ان کے نام بھی بتائے ہیں لیکن اکثریت دوستوں کی ہے اس لئے یہاں بھی ڈنڈی مارتے ہوئے پپو کی مخبریاں ہی بتاؤں گا۔۔ نام سے کسی کو لینا دینا نہیں ۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ سابق ایس ایس پی کے مبینہ مقابلوں کا ایک ہی طریقہ کار تھا جو عرصے سے چلتا آرہا تھا۔۔ وہ ہر مرتبہ اپنے چہیتے رپورٹرز کو مبینہ مقابلے سے قبل تیار رہنےکا کہتا۔۔اس کے بعد اطلاع دی جاتی کہ دہشت گردوں کو گھیرلیاگیا،پھر چہیتے رپورٹرز کو مبینہ مقابلے کے قریب کی جگہ کا ایڈریس بتایاجاتا، کچھ دیر بعد ہی ان چہیتوں کو کالز آجاتی کہ فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، اس دوران یہ تمام مراحل وقفے وقفے سے ٹی وی کے ٹکرز کا حصہ بنتے رہتے۔۔ پھر آخری کال یہ ہوتی کہ اتنے دہشت گردوں کو مقابلے میں ماردیاگیا۔۔مبینہ مقابلے کے دوران افسران کے موبائل فونز بند ہوجاتے، حیرت انگیز طور پر کوئی بھی چہیتا رپورٹر یہ خبر یا ٹکرز دینے سے قاصر رہتا کہ مقابلے میں کیا کوئی پولیس اہلکار ہلاک یا زخمی بھی ہوا؟؟ ۔۔پپو کا کہنا ہے کہ  ان چہیتے رپورٹرز کو یہ تک علم ہوتا تھا کتنے دہشت گرد مارے جائیں گے وہ پہلے ہی اپنے آفس والوں کو تعداد بھی بتادیتے تھے۔۔صرف یہی نہیں جب لیاری کی امن کمیٹی تھی تو اس وقت بھی کچھ رپورٹرز عذیر بلوچ اور دیگر گینگ وار لیڈرز سے براہ راست رابطے میں تھے اور ان رابطوں کے ” صلے” میں خوب مال بنایا، کچھ نے تو فلیٹس بھی لئے اور کچھ نے غیرملکی دوروں کے ساتھ ساتھ، ہر شام شراب اور شباب کو ترجیح دی۔۔۔پپو کا کہنا ہے کہ اگر کراچی کے کچھ نمایاں صحافیوں کے لائف اسٹائل کے بعد ان کے اثاثوں کی تحقیق کی جائے تو پتہ لگ جائے گا کہ کس رپورٹر نے کون سے پوش علاقے میں کتنے کروڑ کا بنگلہ خریدا۔۔ کس کے پاس کون سی قیمتی گاڑی ہے اور کس  نے کتنے عرصے میں کتنے غیرملکی دورے کئے اور لاکھوں کی شاپنگ کیسے کرڈالی؟۔۔پپو کا کہنا ہے کہ کچھ خفیہ اداروں نے ایسے کچھ صحافیوں کے فہرستیں بھی تیار کی ہیں جو کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ کر جرائم پیشہ عناصر اور کرپٹ سرکاری افسران کی مبینہ سرپرستی کرتے رہے اور مال بناتے رہے۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ ایک رپورٹر جو حال ہی میں مارکیٹ میں ” پیدا ” ہوا ہے کرپٹ ایس ایچ اوز کے ساتھ تصویریں بنواکرچندروپوں کے عوض سوشل میڈیا پر ان کے حق میں لکھ رہا ہے، یہ وہی ہے جو چند سال پہلے کراچی کے علاقے کورنگی اللہ والا ٹاؤن میں فحاشی کے اڈے سے برہنہ حالت میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔۔جسکے بعد اسے کچھ صحافیوں کی سفارش پر چھوڑ دیاگیا،دلچسپ بات یہ ہے کہ اس صحافی کے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ یہ کام کہاں کرتا ہے کیوں کہ اس نے اپنے فیس بک پر بزنس پلس،92نیوز ایچ ڈی، روزنامہ جنگ وغیرہ کے نام لکھے ہوئے ہیں۔۔ جب اس ٹائپ کے لوگ فیلڈ میں ہوں گے تو صحافت بدنام کیوں نہیں ہوگی۔۔ ؟؟

اب گھی فروش چینل کا ذکر ہوجائے۔۔ پپو نے کچھ چینل کو اپنے مخصوص نام دیئے ہیں وہ چینلز کو ان کےاصلی ناموں سے نہیں پکارتا، اس لئے پپو کے بولے گئے نام دماغ میں رہتے ہیں، نائنٹی ٹو نیوز کا پورا او ایس آر ان دنوں شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔۔پپو نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ۔۔تمام او ایس آر رپورٹرز سے لائیوکٹ کے نام پر پینسٹھ ہزار روپے “بھتہ” دینے کا نرالا حکم صادرکیاگیا ہے ، جب کہ ہراو ایس آر رپورٹر ماہانہ پانچ ہزار روپے بھی ادارے کو دینے کا پابند ہوگا۔۔پہلے پچیس ہزار روپے کا کہا تھا بعد میں بیس ہزار کی رعایت دے دی۔۔ اور تمام او ایس آرز کو وارننگ دے دی گئی ہے جو پندرہ مارچ تک بھتہ نہیں دے گا اسے فارغ کردیا جائے گا۔۔حیرت انگیز طور پر گھی فروش اخبارنائنٹی ٹو نیوز میں نئے رپورٹرز کے لئے اشتہار بھی دیاگیا ہے۔۔پپو کے مطابق اس چینل کو کھلے ابھی اتنا زیادہ عرصہ نہیں ہوا، اوایس آر رپورٹرز کی اکثریت پہلے دن سے کام کررہی ہے اور اکثریت کا کوئی اور ذریعہ معاش بھی نہیں، یہ تو بالکل اس طرح ہوگیا جیسے تھانےبکتے ہیں، ایس ایچ او کی سیٹ کی بولی لگتی ہے، جو پیسے دے گا وہی تھانیداری کرےگا؟ ۔۔لائیوکٹ کے نام پر پیسوں کا آئیڈیا پتہ نہیں کس نے چینل انتظامیہ کو دیا، پپو کے مطابق اس سے کرپشن کو فروغ ملے گا، اب جو ایماندار اور شریف صحافی پیسے نہیں دے سکے گا وہ تو سائیڈ پکڑ لے گا لیکن ہر شہر میں ایسے درجنوں لوگ ملیں گے جو پینسٹھ ہزار توکیا ایک، ایک لاکھ روپے دے کر رپورٹنگ کا ٹھپہ خود پر لگوا لیں گے اس  کے بعد اپنے علاقے میں چینل کے نام پر وہ لوٹ مار کریں گے کہ انہیں آپ روک بھی نہیں سکیں گے کیوں کہ آپ نے تو ان سے پہلے ہی پانچ ہزار روپے ماہانہ لینے کا معاہدہ کیا ہوگا۔۔پپو نے پی ایف یو جے کے صدر رانا عظیم سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں۔۔  رانا عظیم ہمارے سینئر ہیں اور صحافتی لیڈران میں اہم مقام رکھتے ہیں، وہ خود نائنٹی ٹو میں ہوتے ہیں ،امید ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی جانچ پڑتال کرکے کوئی ایسا راستہ اپنائیں گے جس سے او ایس آر رپورٹرز کی ذہنی اذیت ختم ہوسکے۔۔کیونکہ اس طرح  “بھتہ وصولی” صحافی برادری کے ساتھ نہ صرف بھونڈا مذاق بلکہ پروفیشنل صحافیوں کے ساتھ سراسر ناانصافی بھی ہے۔۔

باتیں بہت سی ہیں جو ابھی کرنی ہیں،  پپو کی مخبریاں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔۔۔ اگلی قسط میں آپ کو بتائیں گے۔۔اینکرز کی شادیوں کا۔۔ اس میں کچھ انکشاف ہوں گے۔۔ ایک مارننگ شو کی خاتون اینکر اب کس سے شادی کرنے جارہی ہیں۔۔ پپو یہ بھی بتائے گا کہ اے آر وائی پر جعلی صحافیوں کا پروگرام کیسے تیار ہوا؟۔۔ قصہ ایسے چینل مالک کا جس کے شوق ہی “وکھرے” ہیں۔۔کچھ نئے آنےوالے چینلز اور کچھ ری لانچ ہونے والے چینلز کا بھی ذکر کیا جائے گا۔۔۔ اس کے علاوہ اور بہت کچھ۔۔پپو کی تازہ اور بھرپور روایتی مخبریوں کے ہمراہ  تین  روز بعد پھر حاضری لگے گی۔جب تک اپنا خیال رکھیئے گا۔۔(علی عمران  جونیئر)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں