seena-ba-seena-93 48

سینہ بہ سینہ قسط 93

سینہ بہ سینہ قسط نمبر 93۔۔

دوستو، کافی لمبے گیپ کے بعد حاضر ہوں۔۔بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے ان دنوں لکھنے لکھانے میں کافی کوتاہی ہورہی ہے۔۔ کوشش ہوتی ہے کہ آپ سے ہر ہفتے ملاقات ہوتی رہے لیکن معمولات زندگی کچھ ایسے بن چکے ہیں کہ باوجود کوشش کہ ٹائم ہی نہیں ملتا کہ کچھ لکھ سکوں۔۔دوسری طرف پپو بھی ناراض ہے اس کا کہنا ہے کہ اتنی ساری مخبریاں دیتا رہتا ہوں لیکن آپ لفٹ نہیں کراتے۔۔مسئلہ یہ ہے کہ پپو تو مخبریاں دے دیتا ہے لیکن انہیں بیٹھ کرلکھنے کے لئے ٹائم کی ضرورت ہوتی ہے اور ٹائم ہے کہ پر لگاکے تیزی سے گزرجاتا ہے ،روز سوچتا ہوں کل لکھوں گا، پھر کل آجاتی ہے اور کل پہ ٹالی گئی بات پھر کل پہ ٹل جاتی ہے۔۔خیر آپ لوگوں کو اس سارے معاملے سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیئے۔۔ اگلے ہفتے کیا ہونا ہے، یہ دعوی تو کوئی نہیں کرسکتا،یہاں اگلے پل کی خبر نہیں۔۔چلیں جلدی جلدی اس بار کا سینہ بہ سینہ پڑھ لیں۔۔باتیں تو زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں۔۔

ریٹنگ سے متعلق دسمبر کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔۔جس کے متعلق پپو کا ہمیشہ کی طرح دعویٰ ہے کہ جو ریٹنگ ہم آپ کو بتارہے ہیں اگر کوئی چینل انتظامیہ اسے چیلنج کردے تو ہم شواہد فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔۔پپو کا کہنا ہے کہ میڈیا لاجک پاکستان کا واحد مستند ادارہ ہے جو میڈیا انڈسٹری کی ریٹنگ کے لئے چینل مالکان کی نمائندہ تنظیم پی بی اے، مشتہرین کی نمائندہ تنظیم پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن اور پیمرا سے منظور شدہ ہے، اور اگلے تین سال تک میڈیا لاجک جس چینل کی جو بھی ریٹنگ دے گا وہی فائنل تصور کی جائے گی، میڈیا لاجک کی ریٹنگ کی بنیادپرہی  ملک کی تمام بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں بھی اپنا کاروبارکرتی ہیں اور اپنا سرمایہ چینلز پہ لگاتی ہیں۔۔ریٹنگ رپورٹ روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر جاری کی جاتی ہیں، روزانہ اور ہفتہ وار تو یہ ریٹنگ آپ سے شیئر کرنا مشکل کام ہے، لیکن پچھلے تین ماہ سے ہم ہر ماہ آپ کو ماہانہ ریٹنگ بتارہے ہیں، جس کا مقصد میڈیا ورکرز اور عام ناظرین کو بھی ریٹنگ کی فلاسفی سمجھانا ہوتا ہے۔۔میڈیا لاجک کی ماہانہ رپورٹ ویسے تو کافی لمبی چوڑی ہوتی ہے لیکن پپو ہمیں اس کے چیدہ چیدہ اور اہم نکات بتادیتا ہے جسے آپ سے شیئر کردیتے ہیں۔۔

دسمبر میں ملک بھرکی ٹوٹل انڈسٹری کی بات کی جائے توپی ٹی وی ہوم پہلے نمبر پر، اے ٹی وی کا دوسرا، اے آر وائی ڈیجیٹل تیسرے نمبر، ہم ٹی وی چوتھے، جیو انٹرٹینمنٹ پانچویں، کارٹون نیٹ ورک چھٹے، پی ٹی وی نیوز ساتویں، جیونیوزآٹھویں، فلم ایزیا نویں، ڈزنی چینل دسویں، اے پلس گیارہویں، ایکسپریس نیوز بارہویں، جیوکہانی تیرہویں، اے آر وائی نیوز چودہویں اور اردو ون پندرہویں نمبر پر ہیں۔۔ سیٹلائٹ اور کیبل پر اے آر وائی ڈیجیٹل پہلے، ہم ٹی وی دوسرے، جیوانٹرٹینمنٹ تیسرے،کارٹون نیٹ ورک چوتھے، جیونیوزپانچویں، فلم ایزیا چھٹے، ڈزنی چینل ساتویں، اے پلس آٹھویں، ایکسپریس نیوز نویں،جیوکہانی دسویں، اے آر وائی نیوز گیارہویں ، اردو ون بارہویں، ایکسپریس انٹرٹیمنٹ تیرہویں، ٹی وی ون اور ٹین اسپورٹس بالترتیب چودہویں اور پندرہویں نمبر پر رہے۔۔دنیانیوز اور سما   دسمبر کے مہینے میں ٹاپ 15 میں کوئی جگہ نہ بناسکے۔۔

علاقوں کے حساب سے اگر ریٹنگ دیکھی جائے توملک کے شہری علاقوں میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینلز میں اے آر وائی ڈیجیٹل پہلے نمبر پر، ہم ٹی وی دوسرے، جیو انٹرٹینمنٹ تیسرے،کارٹون نیٹ ورک چوتھے، فلم ایزیاپانچویں، جیونیوزچھٹے، ڈزنی چینل ساتویں، پی ٹی وی ہوم آٹھویں، اے ٹی وی نویں، جیوکہانی دسویں، اے پلس، گیارہویں، ایکسپریس نیوز بارہویں، اے آر وائی نیوزتیرہویں، اردوون چودھویں اور ایکسپریس انٹرٹینمنٹ پندرہویں نمبر پر رہا ہے۔۔کراچی میں  سب سے زیادہ اے آروائی ڈیجیٹل دیکھاگیا، جیوانٹرٹینمنٹ دوسرے، ہم ٹی وی تیسرے، کارٹون نیٹ ورک چوتھے،جیونیوز پانچویں، اے پلس چھٹے،ایکسپریس نیوز ساتویں،اے آر وائی نیوزآٹھویں،ٹین اسپورٹس نویں، سما  دسویں،اسٹارپلس گیارہویں، ایکسپریس انٹرٹینمنٹ بارہویں، پی ٹی وی ہوم تیرہویں، کلرز چودھویں اور اردوون پندرہویں نمبرپررہا۔۔لاہور میں  بھی سب سے زیادہ اے آر وائی ڈیجیٹل دیکھاگیا، ہم ٹی وی دوسرے، ڈزنی چینل تیسرے، جیونیوزچوتھے، کارٹون نیٹ ورک پانچویں، جیوانٹرٹینمنٹ چھٹے، پی ٹی وی ہوم ساتویں، دنیانیوز آٹھویں، اے پلس نویں، فلم ایزیا دسویں، ایٹ ایس ایم گیارہویں، ٹی وی ون بارہویں، کلرز تیرہویں، ایکسپریس نیوز چودھویں اور جیوکہانی پندرہویں نمبرپررہا۔۔جڑواں شہروں اسلام آباد،راولپنڈی میں جیوکہانی ٹاپ پر رہا،فلم ایزیادوسرے، پی ٹی وی ہوم تیسرے، اے آر وائی ڈیجیٹل چوتھے،اے ٹی وی پانچویں، جیوانٹرٹینمنٹ چھٹے، ٹی وی ون ساتویں، اردو ون آٹھویں، ایکسپریس انٹرٹینمنٹ نویں، کارٹون نیٹ ورک دسویں، پی ٹی وی نیوز گیارہویں، ایکسپریس نیوز بارہویں، جیونیوز تیرہویں، اے پلس چودھویں اور ہم ٹی وی پندرہویں نمبرپررہا۔۔

کیبل اور سیٹلائٹ پر دسمبر میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے انٹرٹینمنٹ چینلز کی بات کی جائے تو اے آر وائی ڈیجیٹل ٹاپ پوزیشن پر ہے، ہم ٹی وی دوسرے، جیوانٹرٹینمنٹ تیسرے، فلم ایزیا چوتھے، جیوکہانی پانچویں، اے پلس چھٹے، اردوون ساتویں، ایکسپریس انٹرٹینمنٹ آٹھویں، ٹی وی ون نویں اور کلرز دسویں نمبر پررہا۔۔انٹرٹینمنٹ چینلز کے پرائم ٹائم  شام سات سے رات دس بجے تک کی بات کی جائے تو سیٹلائٹ اور کیبل پر ہم ٹی وی ٹاپ پررہا، اے آر وائی ڈیجیٹل دوسرے، جیوانٹرٹیمنٹ تیسرے، فلم ایزیا چوتھے، اے پلس پانچویں، جیوکہانی چھٹے، اردوون ساتویں، ایکسپریس انٹرٹینمنٹ آٹھویں، کلرز نویں اور ٹی وی ون دسویں نمبرپررہا۔۔اسٹارپلس ٹاپ ٹین میں شامل نہیں۔۔

انٹرٹینمنٹ چینلز کے پروگراموں کی بات کی جائے تو دسمبر کے دوران جیوانٹرٹینمنٹ کا ڈرامہ سیریل خانی پہلے نمبر پر رہا اور سب سے زیادہ دیکھا گیا، اے آر وائی ڈیجٹل کا ایسی ہے تنہائی دوسرے، ہم ٹی وی کا الف اللہ اور انسان، اے آر وائی ڈیجٹل کابلبلے چوتھے، ہم ٹی وی کا خاموشی، نصیبوں جلی اور تھوڑی سی وفا بالترتیب پانچویں،چھٹے اور ساتویں نمبرپررہا، فلم ایزیا کا ناگن ٹو کا آٹھواں نمبررہا، ہم ٹی وی کا دلدل نویں اور اے آر وائی ڈیجیٹل کا جیتوپاکستان دسویں نمبر پر رہا۔۔۔

دسمبرمیں کیبل اور سیٹلائٹ پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والے نیوزچینلز میں جیونیوز ٹاپ پر رہا، ایکسپریس نیوز دوسرے، اے آر وائی نیوز تیسرے، دنیا نیوزچوتھے، سما پانچویں، نیوزون چھٹے، آج نیوز ساتویں، 92نیوز آٹھویں، ڈان نیوز نویں اور ابتک نیوز دسویں نمبرپررہا۔۔نیوزچینلز کے پرائم ٹائم رات آٹھ سے بارہ بجے کی بات کی جائے تو جیونیوز کی پہلی پوزیشن رہی، ایکسپریس نیوزدوسرے، اے آروائی نیوز تیسرے،دنیانیوزچوتھے، سما پانچویں، نیوزون چھٹے، آج نیوزساتویں، 92نیوزآٹھویں، ڈان نیوز نویں اور 24 نیوز دسویں نمبرپررہا۔۔کرنٹ افیئرز ٹاک شوز کی بات کریں تو دسمبر میں سب سے زیادہ ریٹنگ جیونیوز کے شو لیکن نے لی جس کی میزبان رابعہ انعم ہیں۔۔دوسرے نمبر پر جیونیوزکا ہی آج شاہزیب خانزاہ کے ساتھ، 92نیوز کا ویوز ود مالک تیسرے، اے آر وائی نیوز کا رپورٹر چوتھے، اے آر وائی نیوز کاآف دا ریکارڈ پانچویں، جیونیوزکا نیا پاکستان چھٹے،جیونیوزکا کیپٹل ٹاک ساتویں، اے آر وائی نیوز کا پاورپلے آٹھویں،سما کا کھراسچ نویں اور جیونیوز کا جرگہ دسویں نمبر پررہا۔۔وسیم بادامی کا الیونتھ آور، ڈاکٹر شاہد مسعودکے ٹاک شوز اس بار ٹاپ ٹین سے باہر رہے۔۔۔انفوٹیمنٹ شوز میں ایکسپریس نیوز کا خبردار دسمبر کے دوران سب سے زیادہ دیکھاگیا، دنیانیوزکاحسب حال دوسرے، دنیانیوزکا مذاق رات تیسرے، جیونیوزکاخبرناک چوتھے ، 24نیوز کا کیونکہ یہ جمہوریت ہے پانچویں اور نیوٹی وی کا سواتین چھٹے نمبر پررہا ۔۔

مارننگ شوز کی بات کریں تو دسمبر میں اے آر وائی ڈیجیٹل کا گڈمارننگ پاکستان ٹاپ پر رہا جس کی میزبان ندایاسر ہیں۔۔ ٹی وی ون کا آپ کا ساحر دوسرے، ہم ٹی وی کا جاگو پاکستان جاگو تیسرے، جیونیوز کا جیوپاکستان چوتھے، اے ٹی وی کا مہکتی مارننگ پانچویں، ایکسپریس انٹرٹیمنٹ کا ست رنگی چھٹے،اے آر وائی نیوزز کا مارننگ شو ساتویں، ڈان نیوز کا چائے ٹوسٹ اور ہوسٹ آٹھویں، سما کا صبح سویرے سماکے ساتھ نویں، اے آر وائی زندگی کا سلام زندگی دسویں، آج نیوز کا گڈمارننگ آج گیارہویں، سی ٹی وی کا سن رائز ود استنبول بارہویں، سچ ٹی وی کا سچ سویرا تیرہویں، نیوٹی وی کا نیوپاکستان چودھویں، میٹروون کا مارننگ ڈیلائٹ پندروہویں اور کے ٹوئنٹی ون کا گڈمارننگ سولہویں نمبر پررہا۔۔حیرت انگیز طور پر جیوانٹرٹینمنٹ پر شائستہ لودھی کا مارننگ شو ریٹنگ میں اپنی کوئی جگہ نہ بناسکا۔۔

میوزک چینلز میں دسمبر کے دوران  ٹاپ تھری پر ایٹ ایکس ایم، جلوہ اور اے آر وائی میوزک رہے،جو سب سے زیادہ دیکھے گئے۔۔اسی طرح اسپورٹس چینلز میں دسمبر کے دوران ٹین اسپورٹس چھایا رہا، جیوسوپر دوسرے، پی ٹی وی اسپورٹس  تیسرے نمبرپررہا۔۔مووی چینلز کی بات کریں تو فلم ورلڈ پہلے،فلم ایکس دوسرے، ایچ بی او تیسرے، ڈبلیو بی چوتھے، سلوراسکرین پانچویں، راوی ٹی وی چھٹے، اے ایکس این ساتویں ،اسٹار موویز آٹھویں اور اسٹارلائٹ نویں نمبر پررہا۔۔پرائم ٹائم رات آٹھ بجے سے بارہ بجے کے دوران یہ چینلز اسی پوزیشن پر رہے۔۔فوڈچینلز میں دسمبر کے دوران مصالحہ ٹی وی چھایارہا اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔۔۔بچوں کے لئے کارٹون چینلز میں دسمبر کے دوران کارٹون نیٹ ورک پہلی پوزیشن پر رہا، ڈزنی چینل دوسرے، پوگو تیسرے، نکل اوڈین چوتھے، سینماچی  پانچویں نمبرپررہا۔۔

یہ تھی دسمبر کی ریٹنگ جس میں کئی بڑے بڑے نام اپنی جگہ نہیں بناسکے، مثال کے طور پر دنیا نیوزکے سب سے مہنگے اینکر کامران خان کے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ٹاک شو کی کہیں پوزیشن نظر نہیں آئی، شاہد مسعود جو کچھ دنوں سے میڈیا پہ چھائے ہوئے ہیں دسمبر کے مہینے میں کوئی ریٹنگ نہ دسے سکے، اسی طرح اگر آپ میڈیا ورکر ہیں اور کسی چینل میں ہیں تو خود تجزیہ کرلیں کہ آپ کا چینل اور آپ کے چینل کا طبقہ اشرافیہ (اینکرز) کہاں کھڑا ہے، اس طرح اگر آپ کسی کے فین ہیں تو آپ یہ پوری رپورٹ پڑھنے کے بعد سمجھ لیں کہ آپ کافیوریٹ کس پوزیشن پر ہے۔۔آج کے لئے اتنا ہی، اگلی بار پوری پوری کوشش ہوگی کہ آپ سب کو پپو کی روایتی مخبریوں سنائیں۔۔اب اجازت۔۔(علی عمران جونیئر)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں