Seena-ba-Seena-91 46

سینہ بہ سینہ 91

سینہ بہ سینہ قسط نمبر 91

دوستو، ایک بار پھر ریٹنگ رپورٹ کے ساتھ حاضر ہوں۔۔۔ یہ رپورٹ ماہ اکتوبر سے متعلق ہے۔۔ پپو کا دعوی ہے کہ یہاں ریٹنگ کے حوالے سے جو بھی اعدادوشمار فراہم کئے جارہے ہیں اگر کوئی چینل اسے چیلنج کرتا ہے تو ہم پھر اسے ثابت بھی کرینگے۔۔۔(یہ پپو کا دعوی ہے، میرا نہیں)۔۔پپو نے اکتوبر کے حوالے سے ٹی وی چینلز کی جو بھی ریٹنگ بتائی ہے، من و عن آپ تک پہنچا رہا ہوں۔۔

پپو کا کہنا ہے کہ ، میڈیا لاجک پاکستان کا وہ واحد مستند ادارہ ہے جو میڈیا انڈسٹری کی ریٹنگ کے لئے چینل مالکان کی نمائندہ تنظیم پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن، مشتہرین کی نمائندہ تنظیم پاکستان ایڈورٹائزرز ایسوسی ایشن اور پیمرا سے منظورشدہ ہے۔۔اور اگلے تین سال تک میڈیا لاجک جس چینل کی جو بھی ریٹنگ دے گا اسے ہی حتمی اور فائنل تصورکیا جائے گا، میڈیا لاجک کی ریٹنگ نہ صرف چینلز کے لئے ہیں بلکہ ملک کی تمام بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسیز بھی اپنا کاروبار اسی ریٹنگ کی بنیاد پر کرتی ہیں اور اپنا سرمایہ چینلز پر لگاتی ہیں۔۔میڈیا لاجک ویسے تو روزانہ اور ہفتہ وار کی بنیاد پر بھی اپنی ریٹنگ جاری کرتا ہے لیکن آپ لوگوں کی سہولت کیلئے ہم ماہانہ رپورٹ سے ہی چیدہ چیدہ نکات آپ کی خدمت میں آسان تر الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عام میڈیاورکر کے ساتھ ساتھ میڈیا سے باہر ہمارے عام قاری بھی اس معاملے کو کچھ کچھ سمجھ سکیں۔۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام چینلز انتظامیہ اپنی ریٹنگ اپنے ہی عام ورکرسے چھپاتی ہے، اس لئے گزشتہ دو ماہ سے جب ہم نے ریٹنگ کے مصدقہ اعدادوشمار دینا شروع کئے ہیں تو عام ورکر کو جہاں خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا اور ان کے سامنے اپنے چینل کی حقیقت کھلی وہیں چینلز مالکان میں بھی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔۔ چینلز کی انتظامیہ پریشان ہیں کہ جو چیز “سیکرٹ” ہوتی ہے وہ “پبلک” کیسے ہورہی ہے۔۔ چینلز انتظامیہ کیلئے ریٹنگ رپورٹ “مقدس بائبل” سے کم نہیں ہوتی۔۔ اس لئے انہیں پریشانی ہے کہ اس طرح ایک ویب سائیٹ پر ایک خفیہ چیز بے نقاب ہونے سے ان کا کاروبار متاثر ہوسکتا ہے۔۔ہمارے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میڈیا انڈسٹری میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ویب سائیٹ میں ہم انتہائی وثوق کے ساتھ آپ تک ریٹنگ رپورٹ پہنچاتے ہیں جس کے ساتھ ہم یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ اگر کوئی چینل اسے چیلنج کرتا ہے تو پھر آجائے میدان میں ہمیں غلط ثابت کرنے کیلئے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔۔۔خدانخواستہ یہ بات کسی غرور کے نتیجے میں کررہے ہیں بلکہ الحمدللہ ۔۔انتہائی عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے شکرگزار ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ لوگوں کا اعتماد ہماری ویب سائیٹ پر بڑھتا جارہا ہے جس کی بڑی وجہ میڈیا کی اندورنی وہ خبریں ہیں جنہیں کافی چھان پھٹک کے بعد آپ تک پہنچاتے ہیں اور اکثر تو یہ ہوتا ہے کہ کئی چینلز سے دوست احباب فون کرکے بتاتے ہیں کہ تمہاری ویب سائیٹ سے پتہ چلا کہ ہمارے چینل میں یہ کہانی بھی ہوئی ہے۔۔۔ہمارا نعرہ ہے ۔۔میڈیا کی سب سے مستند خبریں۔۔۔۔اگر پھر بھی کہیں ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم سے کوئی بھول چوک ہوئی ہے ، کسی کی دل آزاری ہوگئی ، یا کسی کے متعلق کچھ غلط لکھ دیا گیا ہے تو اس پر نہ صرف وضاحت پیش کرتے ہیں بلکہ کسی کے کہے بغیر معذرت بھی کرتے ہیں۔۔ کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ لچک ہمیشہ سبزشاخ میں ہی ہوتی ہے،اکڑدکھانے والی ٹہنیاں ہمیشہ ٹوٹ جاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے ہماری ویب سائیٹ آٹھ ماہ کے مختصر عرصے میں نہ صرف میڈیا انڈسٹری میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ویب سائیٹ بن چکی ہے بلکہ پاکستان میں بھی اس کی الیکسا رینکنگ نے کئی پرانی نامی گرامی ویب سائیٹس کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔۔الیکسا دنیا بھر میں ویب سائیٹس کی رینکنگ کے حوالے سے مستند نام ہے ۔۔خیر رینکنگ کی بات ہورہی ہے تو پھر واپس چینلز کی ریٹنگ کی طرف آتے ہیں، آپ بھی سوچ رہے ہونگے یہ تو بس میں تھیلا لے کر چڑھنے والے کی طرح ہے جو صرف اپنے “منجن” کی تعریفیں ہی کررہا ہے۔۔

چلیں اکتوبر کی ریٹنگ پہ کچھ مصدقہ بات چیت ہوجائے۔۔۔میڈیا لاجک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تمام چینلز جو کیبل اور سیٹلائٹ پر دیکھے جاتے ہیں ان میں اے آر وائی ڈیجیٹل پہلے نمبرپر، ہم ٹی وی کا دوسرا، جیونیوز تیسرے اور جیوانٹرٹینمنٹ چوتھے نمبر پر ہے،کارٹون نیٹ ورک پانچویں، ٹین اسپورٹس چھٹے، فلم ایزیا ساتوں، اے پلس آٹھویں،ڈزنی چینل نویں اور اے آر وائی دسویں نمبر پر ہے،ایکسپریس نیوز کا گیارہواں، جیوکہانی بارہویں،اردوون تیرہ،پی ٹی وی اسپورٹس چودھویں اور دنیا نیوز پندرہویں نمبر پر ہے، سما ٹاپ ٹین میں بھی جگہ نہیں بناسکا ۔۔ اسی طرح اگر اکتوبر کی ٹوٹل ریٹنگ دیکھی جائے تو پی ٹی وی ہوم ٹاپ پر،اے ٹی وی دوسرے،اے آر وائی ڈیجیٹل کا تیسرا، ہم ٹی وی چوتھے، پی ٹوی اسپورٹس پانچویں، جیونیوز چھٹے،جیوانٹرٹینمنٹ ساتویں، کارٹون نیٹ ورک ،ٹین اسپورٹس اور فلم ایزیا بالترتیب آٹھویں،نویں اور دسویں نمبر پر رہا، پی ٹی وی نیوز گیارہویں، اے پلس بارہویں، ڈزنی چینل تیرہویں، اے آر وائی نیوز چودھویں اور ایکسپریس نیوز پندرہویں نمبر پر رہا۔۔۔اسی طرح اکتوبر کی بات کی جائے تو شہری علاقوں میں اے آر وائی ڈیجیٹل سب سے زیادہ دیکھا گیا، پھر ہم ٹی وی اور جیونیوز کا نمبر ہے، چوتھی پوزیشن پر جیو انٹرٹینمنٹ ہے پانچویں پر پی ٹی وی ہوم۔۔اے آر وائی نیوز چودھویں اور ایکسپریس نیوز پندرہویں نمبر پر رہا۔۔کراچی میں ٹاپ فائیوچینلز جو سب سے زیادہ دیکھے گئے ان میں اے آر وائی ڈیجیٹل، ہم ٹی وی، جیوانٹرٹینمنٹ، ٹین اسپورٹس اور کارٹون نیٹ ورک رہے۔۔ لاہور میں ہم ٹی وی ، اے آر وائی ڈیجیٹل،جیونیوز، ڈزنی چینل اور کارٹون نیٹ ورک رہے۔۔ جڑواں شہرراولپنڈی اور اسلام آباد میں ٹاپ فائیودیکھے گئے چینلز اکتوبر میں پی ٹی وی ہوم، فلم ایزیا، جیوکہانی،اے آر وائی ڈیجیٹل اور جیو انٹرٹینمنٹ رہے۔۔اکتوبر میں اگر صرف انٹرٹینمنٹ چینلز کی ریٹنگ دیکھی جائے تو پہلی پوزیشن پر اے آر وائی ڈیجیٹل، ہم ٹی وی دوسری، جیوانٹرٹینمنٹ تیسری،فلم ایزیاچوتھے، اے پلس پانچویں،  جیوکہانی چھٹے،اردوون  ساتویں،یکسپریس انٹرٹینمنٹ  آٹھویں، بھارتی چینلز کلرز  نویں اور ٹی وی ون دسویں نمبر پر رہا۔۔انٹرٹینمنٹ چینلز کے پرائم ٹائم شام سات سے رات بارہ بجے تک کی نشریات کی ریٹنگ دیکھی جائے تو اکتوبر میں ہم ٹی وی پہلے نمبرپر، اے آر وائی ڈیجیٹل دوسرے،فلم ایزیا تیسرے، جیوانٹرٹینمنٹ چوتھے، اے پلس پانچویں، جیوکہانی چھٹے، اردوون ساتویں، ایکسپریس انٹرٹینمنٹ آٹھویں،بھارتی چینل کلرز نویں اور ٹی وی ون دسویں نمبر پر رہا۔۔۔ستمبر کی ریٹنگ میں ایک اور بھارتی چینل اسٹار پلس دسویں نمبر پر تھا جس کی نشاندہی کی گئی تو اب وہ ٹاپ ٹین میں نہیں رہا، اس کا مطلب ہے آپ لوگ بھی پپو کے لکھے ہوئے کا نوٹس لیتے ہیں اور بھارتی چینلز کا ازخود بائیکاٹ کردیتے ہیں۔۔اکتوبر میں نیوزچینلز کی ریٹنگ کچھ اس طرح رہی، جیونیوز پہلے نمبر پر رہا، اے آر وائی دوسری، ایکسپریس نیوزتیسرے، دنیا نیوزچوتھے نمبر،سما پانچویں،ڈان نیوز چھٹے، 92نیوز ساتویں، آج نیوز آٹھویں، نیوزون نویں اور ابتک نیوز دسویں پوزیشن پر رہا۔۔نیوزچینلز کے پرائم ٹائم رات آٹھ بجے سے بارہ بجے تک میں جیونیوز،اے آر وائی نیوز اور دنیا نیوز بالترتیب پہلے،دوسرے ،تیسرے نمبر پر رہے، ایکسپریس نیوز کا چوتھا، سما پانچویں،92نیوز چھٹے، آج نیوز ساتویں،نیوز ون آٹھویں، ڈان نیوز نویں اور دن نیوز دسویں نمبر پر رہا۔۔میوزک چینلز میں ایٹ ایکس ایم کا پہلا، جلوہ دوسرے، اے آر وائی میوزک تیسرے،وائب ٹی وی کا چوتھا نمبر رہا۔۔اسی طرح اسپورٹس چینلز میں اکتوبر کے دوران ٹین اسپورٹس ،پی ٹی وی اسپورٹس،جیوسوپر بالترتیب پہلے،دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔۔مووی چینلز میں فلم ورلڈ پہلے ، ایچ بی او، دوسرے،ؤبلیوبی تیسرے، سلوراسکرین چوتھے، فلم ایکس پانچویں، راوی ٹی وی چھٹے،اسٹار موویزساتویں، اے ایکس این آٹھویں اور اسٹارلائٹ ٹی وی نویں نمبر پر رہا۔۔مووی چینلز کے پرائم ٹائم میں فلم ورلڈ، ایچ بی او، سلوراسکرین ٹاپ تھری میں رہے۔۔فوڈچینلز میں مصالحہ ٹی وی،ذائقہ پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے۔۔بچوں کے کارٹون چینلز میں اکتوبر کے دوران ٹاپ تھری چینلز میں کارٹون نیٹ ورک، ڈزنی چینل اور نکلوڈین رہے۔۔

اسی طرح انٹرٹینمنٹ میں سب سے زیادہ مشہور یا زیادہ دیکھے جانے والے پروگراموں میں  ہم ٹی وی کا سیریل الف اللہ اور انسان ٹاپ پر رہا، اے آر وائی ڈیجیٹل کا شادی مبارک ہو دوسرے نمبر پر، فلم ایزیا کا ناگن ٹو کی تیسری پوزیشن رہی، ہم ٹی وی کا سیریل یقین کا سفر چوتھے، اے آر وئی ڈیجیٹل کا مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے پانچویں، اے آر وائی ڈیجیٹل کے ہی غیرت اور بلبلے بالترتیب چھٹے اور ساتویں نمبر پر، اے پلس کا جاگ اٹھا شیطان آٹھویں، جیوانٹرٹینمنٹ کا محبت تم سے نفرت ہے نویں اور اردوون کا باغی دسویں پوزیشن پر رہا ۔۔اے آر وائی ڈیجیٹل کا پروگرام جیتوپاکستان اس بار ٹاپ ٹین سے باہر ہوگیا جب کہ جیوانٹرٹینمنٹ کا گیم شوٹاپ 15 میں بھی جگہ نہ بناسکا۔۔نیوزچینلز کے ٹاک شوز کی بات کی جائے تو جیونیوز کے آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ، کیپٹل ٹاک اور نیا پاکستان ٹاپ تھری پر رہے،اے آر وائی نیوز کا پاورپلے  اور رپورٹرچوتھے  اور پانچویں نمبر پر،جیونیوزکا جرگہ چھٹے، نیوزون کا لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود ساتویں، جیونیوزکارپورٹ کارڈ آٹھویں، اے آر وائی نیوز کا آف دا ریکارڈ نویں اور اے آر وائی نیوزکا ہی سوال یہ ہے دسویں نمبر پر رہا۔۔وسیم بادامی کا الیونتھ آور ٹاپ ٹین سے باہر ہوگیا۔۔جب کہ کاشف عباسی کا آف دا ریکارڈ بھی مسلسل نیچے کی طرف آرہا ہے جس کی بڑی وجہ ممکنہ طور پراس کے کانٹینٹ رائٹر کی علیحدگی ہے۔۔۔نیوزچینلز کے انفوٹینمنٹ شوز میں جیونیوزکا خبرناک پہلے،ایکسپریس نیوز کا خبردار دوسرے،دنیانیوزکا حسب حال تیسرے، ایکسپریس نیوز کا سیاسی تھیٹر چوتھے، 24نیوز کا کیونکہ یہ جمہوریت ہے پانچویں اور نیونیوز کا سواتین چھٹے نمبر پر رہا۔۔مارننگ شوز میں اکتوبر کے دوران اے آر وائی ڈیجیٹل کا گڈ مارننگ پاکستان پہلے نمبر پر رہا ہے جس کی میزبان ندایاسر ہیں۔۔ دوسرے نمبر پر ہم ٹی وی کا جاگو پاکستان، تیسرے نمبر پراے ٹی وی کا مہکتی مارننگ،چوتھے نمبر پر ٹی وی ون کا آپ کا ساحر، جیونیوز کا جیوپاکستان پانچویں،ڈان نیوز کا چائے ٹوسٹ اور ہوسٹ چھٹے،اے آر وائی نیوز کا مارننگ شو ساتویں،سما کا صبح سویرے سما کے ساتھ آٹھویں،ایکسپریس انٹرٹینمنٹ کاست رنگی نویں اور نیونیوز کا نیوپاکستان دسویں نمبر پر رہا۔۔ شائستہ لودھی کا جیوانٹرٹینمنٹ پر مارننگ شوٹاپ ٹین میں بھی جگہ نہیں بناسکا۔۔اور اکتوبر میں اشتہارات کی بات کی جائے تو نیوز چینلز کو چھتیس،انٹرٹینمنٹ کو پینتیس،علاقائی چینلز کو چودہ،اسپورٹس چینلز کو تین فیصد اشتہارات دیئے گئے۔۔

آج کیلئے اتنا ہی، بس ایک مختصر سے بریک کے بعد۔۔ پپو کی مزید مخبریاں، جس کیلئے وہ میڈیا انڈسٹری میں مقبول ہے، شرطیہ نئی اور تازہ مخبریوں کے ہمراہ پپو کے ساتھ پھر حاضری دونگا۔۔جب تک اجازت۔۔ علی عمران جونیئر۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں