Columnnigaron ki Khalis Muhabbaten By Syed Badar Saeed 29

کالم نگاروں کی خالص محبتیں

تحریر: سید بدرسعید

غم لکھتے بہت لوگ ہیں لیکن اپنے جذبات کو دوسروں پر نازل کرنا کسی کسی کو آتا ہے ، روف کلاسرا نے اپنے بھائی کی وفات پر ”تنہائی کے پانچ سال کے عنوان”‘ سے کالم لکھا ،ممکن ہو تو پڑھیے گا ۔ ایک خالص محبت آپ کو نظر آئے گی ۔ کسی کی یادوں کے حوالے سے یہ دوسرا کالم ہے جس نے مجھے اپنے حصار میں لیا ہے ۔ پہلا کالم ملتان کے کالم نگار اور شاعر خالد مسعود کٹہرا نے اپنی بیگم کی وفات پر لکھا تھا ، مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک سے زیادہ کالم لکھے تھے ، ان دنوں میں روزنامہ دنیا کے ایڈیٹوریل سیکشن میں بطور ”چھوٹا” کام کرتا تھا ، چھوٹا اس لئے کہ وہاں علم و ادب کے دیو بیٹھے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر میں نے چھوٹا بننے کا فیصلہ کیا تاکہ استادوں سے ہنر سیکھ سکوں ، اسلم کولسری صاحب ، فیض بخش صاحب ، عمار چودھری اور دیگر بھی وہیں تھے ، وہ آواز لگاتے چھوٹے پانا اٹھا اور اس کالم کو آدھا کر دے ، میں چلاتا جی استاد جی ، دو منٹ میں ہو گیا ۔ خیر کٹہرا کانٹ چھانٹ اور ایڈیٹنگ کے لیے میرے پاس آیا تو میں وہ کالم لے کر کمرے سے باہر آ گیا ، کافی دیر ایک کونے میں چھپا بار بار پڑھتا رہا اور ایک شوہر کی اپنی بیوی سے سچی محبت کے اس خوبصورت اور اذیت ناک تاثر میں گم رہا ۔ مجھے لگا شاید خالد مسعود صاحب اب مر جائیں گے ۔ انہوں نے حقیقت میں دل اٹھا کر کالم میں رکھ دیا تھا ۔ روف کلاسرا بنیادی طور پر انویسٹی گیٹیو کالم نگار ہیں ، میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ یہ کتنا خطرناک کالم لکھتے ہیں ، وہ سب کچھ بھی جو اخبار چھاپنے کی ہمت نہیں رکھتا ، میں ایک جذباتی لڑکے کے طور پر ان کے کالموں کی کٹنگ پر استاد سے لڑا کرتا تھا ، سینئر ایڈیٹر سمجھاتے تھے کہ کالم کا ڈنگ نکالنا ضروری ہے ورنہ مسائل پیدا ہوں گے ، ایک دن میں نے کہا ؛ سر ڈنگ نکال دیں ، دل کرے تو کالم کا ختنہ بھی کر دیں لیکن جنس تو تبدیل نہ کریں ،ہم تو کالم کی مردانگی ہی ختم کر دیتے ہیں ، اب سمجھ آتی ہے ، وہ سب چھپ جاتا تو روف کلاسرا جہاں اب ہیں اس سے بھی کئی گنا آگے کی منزل پر کھڑے ہوتے لیکن اخبار بین ہو چکا ہوتا ۔ میں ان کی انویسٹیگیشن کا مداح ہوں لیکن جنوبی پنجاب اور اپنے بھائی کے حوالے سے انہوں نے جو کالم لکھے ان میں جادو ہے ، یہ کالم اپنی جانب کھنچتے ہیں ، دل اٹھا کر کالم میں رکھنے کا ہنر دیکھنا ہو تو یہ کالم پڑھیے گا یا خالد مسعود کا کالم سرچ کریں جو انہوں نے بھابھی کی وفات پر لکھا تھا۔ نوجوان کالم نگاروں کو خاص طور پر یہ کالم پڑھنے چاہیے ، اس نصاب میں سہیل وڑائچ کے کالم اور نذیر ناجی کا کالم ”اے خدا میرے ابو سلامت رہیں ” بھی شامل کر لیں (سید بدر سعید)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں