subscribe
There is no God Except Allah
Qur'an and Science
canada goose jacke parajumpers ugo parajumpers jas ugo canada goose uk moncler outlet
canada goose jacke parajumpers ugo parajumpers jas ugo canada goose uk moncler outlet

معرا ج کا سفر Journey of Miraj

معرا ج کا سفر Journey of Miraj

معرا ج کا سفر:

قرآ ن میں معرا ج کا ذکر:

سبحن الذی اسرٰی بعبد ہ لیلاً من المسجد الحرا م الی المسجد الاقصا….
[بنی اسرا ئیل: پارہ ۱۵ ، آ یت : ۱]

تر جمہ:
“پاک ہے وہ ذا ت جس نے اپنے بند ہ کو را ت میں مسجدِ حرا م سے مسجدِ اقصیٰ تک سفر کرا یا”
[بنی اسرا ئیل: آیت ۱]

* مسجد الحر ا م سے مسجد الا قصیٰ کے سفر کو اسرا ء کہتے ہیں۔
* اور مسجد الا قصیٰ سے آ سما نو ں سے اُ و پر کے سفر کو معرا ج کہا جا تا ہے۔
(معا ر ف القرآ ن)
اس آ یتِ کر یمہ کے لفظ کو “سبحا ن الذی” سے شروع کیا گیا ہے جو اُ ن لو گو ں کی عقلو ں پر چوٹ ما رتا ہے
جو یہ کہتے ہیں کہ “کیسے کو ئی را ت میں ایک لمحہ میں آ سما نو ں پر گھو م کر آ سکتا ہے؟؟”
اﷲپا ک نے آ یت کے شروع میں فر مایا :
“سبحا ن الذی” یعنی پا ک وہ ذا ت ! کس سے پا ک ہے؟ اس کا تر جمہ کچھ یو ں کر یں گے۔ پا ک ہے وہ
ذا ت تما م اعترا ضا ت سے۔
یعنی اﷲتبا رک و تعالیٰ پر ہم یہ اعترا ض نہیں کر سکتے کہ وہ کیسے را ت کے ایک معمو لی حصے میں سا تو ں آ سما ن پر آ پ ﷺ
کو سیر کر وا کر لے آ ئے؟؟

اﷲ ایسے تما م اعتر ا ضا ت سے پا ک ہے کیو نکہ اﷲپر چیز پر قد رت رکھنے وا لا ہے ۔ اِ سی لئے آ یت کے شروع میں اُ ن
تما م لو گو ں پر اﷲ نے چو ٹ ما ری جو اعتر ا ض کر تے ہیں۔
ہما ر اعقید ہ ہے کہ بس اﷲ اپنی قد ر ت سے آ پ ﷺ کو سا تو ں آ سما نو ں سے اُ وپر لے کر گئے اور ملا قا ت کا شر ف بخشا۔
* مسجد الحر ا م سے مسجد الا قصیٰ تک کا فا صلہ اُ و نٹو ں پر چا لیس (۴۰) دن کا تھا۔
[رو ح المعا نی صفحہ ۹ جلد ۱۵]

اُ س دور کے لو گ عقل کے مطا بق اس سفر کو دیکھ رہے تھے اور ما ننے کو تیا ر نہ تھے کیو نکہ صرف مسجد الحرا م سے مسجد الا قصیٰ
کا فا صلہ اُ و نٹ پر ہی چا لیس دن کا تھا۔ چنا نچہ کچھ نے ما نا اور کچھ نے انکا ر کر دیا۔

(معرا ج کا سفر کیو ں کروا یا گیا؟؟)


اﷲ کی کتاب بہت عظمت والی اور ایک مکمل و جا مع کتا ب ہے ایک ایک با ت کو قرآ ن میں نہا یت خو بصو ر تی کے سا تھ
یہا ں کیا گیا ہے۔ جب مشر کینِ مکہ نے آ پ ﷺ کو طر ح طر ح کی تکلیفیں اور دُ کھ دئیے تو آ پ ﷺ بہت غمگین
ہو گئے۔
جیسا کہ اِ ن آ یتو ں میں نظر آ تا ہے۔
“اور ہم جا نتے ہیں کہ ان با تو ں سے آ پ کا دل تنگ ہو تا ہے۔”
[الحجر: ۹۷]

“اور صبر ہی کر و تمہا را صبر بھی خدا ہی کی مد د سے ہے اور اُ ن کے با رے میں غم نہ کر و اور جو لو گ
بد اند یشی کر تے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہو۔”
[النحل: ۱۲۷]

اکثر انسا نو ں کی فطر ت ہو تی ہے کہ جب اُ ن کا دل اُدا س یا وہ غمگین ہو تے ہیں تو کہیں سفر کر تے ہیں یا کسی سے
ملا قا ت کر نے چلے جاتے ہیں تا کہ اُ ن کی تھو ڑی اُدا سی دور ہو جائے۔
اِ سی اندا ز کو اﷲ تبا ر ک و تعالیٰ نے اپنا یا ہے اور فر ما یا ہے کہ :
“آ پ اُ داس نہ ہو ں ان (مشر کینِ مکّہ ) کی با توں سے یہ تو کہتے ر ہیں گے۔”

لہٰذا اﷲ پا ک نے بھی آ پ ﷺ کو سیر کر و ائی تا کہ آ پ ﷺ کے دل کا بو جھ کم ہو جا ئے۔
جب کو ئی بند ہ سفر کر تا ہے تو چھ (۶) با تیں دیکھی جا تی ہیں۔
۱۔ سفر پر لے جا نے والا کو ن ہے؟
۲۔ سفر پرجا نے وا لا کو ن ہے؟
۳۔ سفر کا وقت کیا ہے؟
۴۔ سفر کہا ں سے شروع ہے؟
۵۔ اور کہا ں ختم ہے؟
۶۔ سفر کا مقصد کیا ہے؟
اﷲ کی کتا ب اتنی پیا ری اور جا مع ہے کہ سب با تو ں کے جو ا ب ایک آ یت میں ہی دے دئیے۔ آ ئیے آ یتِ کر یمہ دیکھتے ہیں۔
“سبحا ن الذی” (پاک ہے وہ ذات) یعنی “اﷲ”
سو ال نمبر۱: سفر پر لے جا نے والا کو ن ہے؟
جو اب: آ یت کے پہلے لفظ میں جو ا ب مل گیا کہ “اﷲ” ہے۔
سو ال نمبر ۲: سفر پر جا نے والا کو ن ہے؟
جو ا ب: “اُ سریٰ بعبد ہ” (جو اپنے بند ے کو) یعنی محمد ﷺ۔
سو ال نمبر۳: سفرکا وقت کیا ہے؟
جو ا ب: لیلاً” (را ت کے ایک لمحے میں) یعنی “را ت کے وقت”
سو ال نمبر۴: سفرکہا ں سے شروع ہے؟
جو ا ب: “من المسجد الحر ام” (مسجد الحر ام سے) یعنی “خا نہ کعبہ” سے۔
سو ال نمبر۵: سفرکہا ں ختم ہوا؟
جو ا ب: “الی المسجد الا قصیٰ” (مسجد الا قصیٰ تک) یعنی “بیت المقد س ” تک۔

سو ال نمبر۶: سفرکا مقصد کیا ہے؟
جو ا ب: “لنر یہ من آ یا تنا” (تاکہ ہم (اپنی قد رت) کی نشا نیا ں دکھا سکیں)۔
سبحان اﷲ کتنی پیا ری کتا ب ہے اﷲ پا ک کی مگر افسو س ہم قرآ ن کے عجا ئبا ت کو تو فو راً مان لیتے ہیں
لیکن قرآ ن میں جو عذا با ت کا ذکر ہے جیسے نماز نہ پڑ ھنے وا لے کو جہنم میں ڈا لا جائیگا جو ایک بہت درد نا ک
جگہ ہے یہ ہم نہیں ما نتے اور نہ ہم نما ز پڑ ھتے ہیں نہ بُر ے کا مو ں سے خود بچتے ہیں نہ دو سر و ں کو رو کتے ہیں۔ اﷲ
ہما رے ایما نو ں کی حفا ظت فر مائے۔اور ہم پر اپنا خا ص رحم و کر م فر مائے۔
(آ مین)
* آقا علیہ السلا م جب مسجد الا قصیٰ پہنچے تو وہا ں تما م انبیا ء کر ام نے آ پ ﷺ کا استقبا ل کیا اور پھر آ پ ﷺ
نے تما م انبیا ء کر ام کی اما مت کی اور نما ز پڑ ھا ئی۔
اِ سی لئے آ پ ﷺ کو اما م الا نبیا ء کہا جا تا ہے۔
[صحیح مسلم صفی ۹۶ ج ۱]

* جب آ پ ﷺمسجد الا قصیٰ سے فا ر غ ہو ئے تو آ پ ﷺ نے آ سما نو ں کی جا نب سفر کیا۔ آ پ ﷺ نے تما م
آ سما نو ں کی سیرکی اور ہر آ سما ن پر آ پ ﷺ کی مختلف انبیا ء کر ام سے ملا قا تیں ہو ئیں۔ جن کے نام درج ذیل ہیں۔
۱۔ پہلے آسمان پر: حضرت آ دم علیہ السلا م
۲۔ دو سر ے آ سما ن پر: حضرت عیسیٰ اور حضر ت یحییٰ علیہ السلا م
۳۔ تیسرے آ سما ن پر: حضرت یو سف علیہ السلا م
۴۔ چو تھے آ سما ن پر: حضرت ادریس علیہ السلا م
۵۔ پا نچو یں آ سما ن پر: حضرت ہا رو ن علیہ السلا م
۶۔ چھٹے آ سما ن پر: حضرت مو سیٰ علیہ السلا م
۷۔ سا تو یں آ سما ن پر: حضرت ابرا ہیم علیہ السلا م
[صحیح مسلم]

(ملا قا تیں کیو ں ہو ئیں؟؟)

ہر آ سمان پر خا ص نبی سے ملا قا ت ہو ئی۔ اس خا ص ملا قا ت کی علما ء کچھ یو ں تفسیر کر تے ہیں۔
سوال نمبر ۱: پہلے آ سما ن پر حضر ت آ دم علیہ السلا م سے ملا قا ت کیو ں ہو ئی؟
جو ا ب: اس ملا قا ت میں اس با ت کی طر ف اشا رہ تھاکہ جیسے حضر ت آ دم علیہ السلا م نے جنت سے زمین کی
طر ف ہجرت کی تھی اُ سی طر ح میر ے محبو ب آ پ ﷺ نے بھی مکّہ سے مد ینہ ہجر ت فر ما ئیں گے۔
سوال نمبر ۲: دو سر ے آ سما ن پر حضر ت عیسیٰ اور حضر ت یحییٰ علیہ السلا م سے ملا قا ت کیو ں ہو ئی؟
جوا ب : اس ملا قا ت میں اس با ت کی طر ف اشا رہ تھا کہ جس طر ح حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کو یہو دیو ں نے
تکا لیف دی تھی اُ سی طر ح آ پ ﷺ کو بھی یہو دی تکا لیف پہنچا ئیں گے اور قتل کا منصو بہ بھی یہو دی
بنا ئیں گے۔ لیکن آ پ ﷺ پر یشا ن نہ ہو نا جس طر ح ہم نے عیسیٰ کو محفو ظ رکھا و یسے ہی ہم آ پ کی
بھی حفا ظت فر ما ئیں گے۔
سوال نمبر۳: تیسرے آ سما ن پر حضرت یو سف علیہ السلا م سے ملا قا ت کیو ں ہو ئی؟
جو ا ب: اس ملا قا ت میں اس با ت کی طر ف اشا رہ تھا کہ جیسے حضرت یو سف علیہ السلا م کے سا تھ اُ ن کے
بھا ئیو ں نے بُرا کیا تھا پھر آ پ نے بعد میں اُ ن کو معا ف کر دیا تھا ۔ اِ سی طر ح آ پ ﷺ بھی جب
مدینہ سے وا پس مکّہ آ ئیں گے تو اُ س وقت آ پ ﷺ بھی اپنے خو ن کے پیا سو ں کو معا ف فر ما دیں گے۔حضر ت یو سف ؑ نے تو اپنے خو ن کے ر شتے کو معا ف کیا تھا لیکن امام الا نبیا ء ، محمد عر بی ﷺ
نے تو اپنے خو ن کے پیا سو ں کو ہی معا ف کر دیا تھا۔
سوال نمبر۴: چو تھے آسما ن پر حضرت ادریس علیہ السلا م سے ملا قا ت کیو ں ہو ئی؟
جو ا ب: اس ملا قا ت میں اس با ت کی طر ف اشا رہ تھا کہ حضرت ادریس علیہ السلا م خط و کتا بت کے با نی ہیں۔
خط و کتا بت کا سلسلہ حضرت ادریس علیہ السلا م نے ہی شروع کیا تھا ۔ لہٰذا آ پ ﷺ نے بھی ایسا ہی
کیا اور بڑ ے بڑے با دشا ہو ں کو خطو ط کے ذ ر یعے اسلا م کی دعو ت دی۔

سوال نمبر۵: پا نچو یں آ سما ن پر حضرت ہا رون علیہ السلا م سے ملا قا ت کیو ں ہو ئی تھی؟
جو ا ب: اس ملا قا ت میں اس با ت کی طر ف اشا رہ تھا کہ جس طر ح بنی اسرا ئیل نے بچھڑ ے کی پو جا کی تھی تو
اُ س کے نتیجے میں اُ ن کی معا فی یہ تھی کہ جنہو ں نے شر ک کیا اُ ن کو اُ نہی کی قوم والے قتل کر یں تبھی اُ ن
کی معا فی قبو ل کی جا ئیگی۔ اُ سی طر ح آ پ ﷺ نے بھی ایک غز ؤ ہ ایسا کیا تھا جِسے غز ؤ ہ بد ر کے نام
سے یا د کیا جا تا ہے یہ صر ف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ رشتے دا رو ں کی آ پس میں جنگ تھی۔ ایک طر ف
حضر ت ابو بکر صدیقؓ تھے تو دو سر ی طر ف اُ ن کا بیٹا عبد الر حمٰن بن ابو بکرؓ تھا۔ اِ سی طر ح خو ن کے اور بہت
سے رشتے آ منے سا منے تھے۔
سوال نمبر۶: چھٹے آ سمان پر حضرت مو سیٰ علیہ السلا م کی ملا قا ت کیو ں ہو ئی؟
جو اب: اس ملا قا ت میں اس با ت کی طر ف اشا رہ تھا جس طر ح حضرت مو سیٰ علیہ السلا م نے ملک شا م میں
جہا د کیا اور قتال کیا ۔ اس میں آ پ کو فتح بھی ہو ئی ۔ اِ سی طر ح آ پ ﷺ نے بھی شا م میں جہا د کیا
جس کو ہم غز ؤ ہ تبو ک کے نا م سے جا نتے ہیں ۔
سوا ل نمبر۷: سا تو یں آ سما ن پر حضرت ابرا ہیم علیہ السلا م سے ملا قا ت کیو ں ہو ئی؟
جو ا ب: اس ملا قا ت میں اس با ت کی طر ف اشا رہ تھا کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلا م نے خا نہ کعبہ تعمیرکیا تھا۔ تو
اس سے مرا د حجتہ الودا ع تھا کہ آ پ ﷺ وفا ت سے پہلے حج بھی ادا کر یں گے۔
[فتح البا ری: ص ۱۶۲ : ج ۷]

(معرا ج کے انعا ما ت)

* پچا س نما زو ں کا فر ض ہو نا جبکہ حضرت مو سیٰ ؑ کے کہنے پر کم کر وا کر اگر چہ پا نچ کر وا دی گئی لیکن ثوا ب پچا س
نما زو ں کے بر ا بر ہی ملے گا۔
[صحیح مسلم]

* نیکی کے ارا دے پر ایک نیکی کا لکھے جا نا اور گنا ہ کے ارا دے پر کچھ نہ لکھنا جب تک گنا ہ نہ کر لے۔ جبکہ نیکی
کر نے پر دس(۱۰) نیکیا ں لکھی جا تی ہیں اور گنا ہ کر نے پر صر ف ایک (۱) گنا ہ لکھا جا تاہے۔
[صحیح مسلم ص ۹۱ ج ۱]

* اُ متِ محمد ی کے بڑ ے بڑ ے گنا ہ بخش دیئے جا ئیں گے سوا ئے شر ک کے۔
[مسلم ص ۹۷ ج ۱]

(سفرِ معرا ج پر دیکھے گئے کچھ عذا با ت)

* کچھ لو گ آ گ کی قینچیو ں سے اپنے ہو نٹ کا ٹ رہے تھے یہ وہ لو گ تھے جو بڑ ے بڑ ے خطیب تھے لو گو ں
کو بھلا ئی کا حکم تو دیتے تھے مگر خو د عمل نہیں کر تے تھے۔
[مشکوٰ ۃ المصا بیح : ص ۴۳۷]

* کچھ لو گو ں کے نا خن تا نبے کے تھے جن سے وہ اپنے چہر وں اور سینو ں کو چھیل رہے تھے۔ یہ وہ لو گ تھے جو
دُ نیا میں لو گو ں کی غیبت کیا کر تے تھے ۔
[رواہ ابو داؤ د کما فی المشکوٰ ۃ : ص ۴۲۹]

* کچھ لو گ ایسے بھی دیکھے جب کے پیٹ اتنے بڑ ے تھے (جیسے انسا نو ں کے رہنے کے ) گھر ہو تے ہیں۔
ان میں سا نپ تھے جو با ہر سے اُ ن کے پیٹو ں میں نظر آ رہے تھے یہ وہ لو گ تھے جو سُو د کھا تے تھے۔
[مشکوٰۃ المصا بیح: ص ۲۴۶]

* کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے سر پتھر و ں سے کچلے جا رہے تھے اور کچلے جا نے کے بعد پھر سے اُ ن کے سر
جو ڑ دیئے جا تے اور یہی عمل جا ری رہتا۔ یہ وہ لو گ تھے جو نما ز میں سُستی کیا کر تے ہیں۔
[ المشکوٰ ۃ ]

* کچھ لو گ ایسے بھی تھے جن کی شر مگاہو ں پر چیتھڑ ے لپٹے تھے۔ اور اُ ونٹ اور بیل کی طر ح چر تے (کھا تے)
ہیں۔ اور یہ آ گ کے کا نٹے اور بد بو دا ر درخت اور جہنم کے پتھر کھا ر ہے تھے ۔ یہ وہ لو گ ہیں جو اپنی ما لو ں کی
زکو ۃ نہیں دیتے تھے۔
[ المشکوٰ ۃ ]

* کچھ مر د اور عو ر ت ایسے بھی تھے جو کچا اور سڑا ہو ا گو شت کھا رہے تھے۔ یہ وہ مر د اور عو ر تیں ہیں جو حلا ل شو ہر
یا بیو ی ہو نے کے با وجو د زنا کیا کر تے تھے۔
[ المشکوٰ ۃ ]

* کچھ لو گ تھے جو لکڑ ی کا بہت بڑ ا گٹھرا اُ اٹھا رہے تھے مگر اُ ٹھا نہیں پا رہے تھے (لیکن) اور بو جھ اُ ٹھا نا چا ہ
رہے تھے۔ یہ وہ لو گ تھے جو اما نتیں تو لے لیتے تھے لیکن ادا نہیں کر تے تھے اور مز ید اما نتو ں کا بو جھ اپنے
سر لینے کو تیا ر ہیں۔
[ المشکوٰ ۃ ]

یہ چند عذا با ت تھے جو ہم نے آ پ کی خد مت میں پیش کئے ۔ لہٰذا آ پ بھی ا ن گنا ہو ں سے بچئے کہیں آ پ بھی
ان عذا با ت کی لپیٹ میں نہ آ جا ئیں۔
اﷲہم سب کو اپنی رحمت سے جنت میں دا خل کر ے اور جہنم کے دھو یں سے بھی ہما ری حفا ظت فر مائے۔
(آمین)
(معرا ج سا ئنس کی نظر میں)
* معرا ج کے با رے میں سا ئنس کیا کہتی ہے؟
کیا ایسا ممکن ہے کہ را ت کے ایک مختصر لمحے میں کو ئی اتنا لمبا سفر طے کر کے آ جا ئے؟؟
وہ بھی چند دنو ں کا نہیں، سالو ں کا نہیں، کئی ہزا ر سا لو ں کا سفر ایک لمحے میں کو ئی طے کر سکتا ہے؟
سا ئنس کا نا م لیا جا ئے اور البرٹ آ ئن اسٹا ئن (Albert Einstein) کا نام نہ لیا جائے تو یہ نا انصا فی ہو گی۔
آ ئن اسٹا ئن نے سا ئنس کی دُ نیا میں بڑ ے بڑ ے کا ر نامے انجا م دیئے ہیں اور سا ئنس کی دُ نیا میں ایک انقلا ب بر پا کر دیا ہے۔

ا ن کی ایک بہت مشہو ر “Equation , E = mc” جس کو “Theory of Relativity” کے نا م
سے یا د کیا جا تا ہے۔ اس پر آ ئن اسٹا ئن کو “Nobel Prize”بھی دیا گیا تھا۔
اس تھیو ری کو اس طر ح سمجھتے ہیں کہ:
* “E” سے مرا د توا نا ئی (Energy)
* “m” سے مرا د جسم (mass)
* “c” سے مرا د رو شنی کی رفتا ر (speed of light)
اس تھیو ری کے مطا بق کو ئی بھی جسم اگر رو شنی کی رفتا ر سے بھی سفر کر ے تو وہ توا نا ئی میں تبد یل ہو سکتا ہے۔ یعنی،
(Mass can be converted into energy)
مثلاً:
ایک بم ہے جسے ہم جسم (mass) تصو ر کر لیتے ہیں۔
جب وہ بم یعنی جسم پھٹتا ہے تو اُ س سے تو ا نا ئی (energy) نکلتی ہے۔ جو آ س پا س کی چیز و ں کو نقصا ن پہنچا تی ہے۔
اب ہمیں تو ا نا ئی کے اثرا ت تو نظر آ رہے ہو تے ہیں لیکن وہ بم یعنی جسم (mass) نظر نہیں آ تا۔ کیو ں کہ جسم
(mass) تو ا نا ئی (energy) میں تبد یل ہو جا تا ہے۔
با لکل اِ سی طر ح معرا ج کے سفر کو ہم سا ئنس کی نگا ہ سے دیکھ سکتے ہیں ۔ روا یتو ں کے مطا بق معرا ج کے سفر میں ایک
سوا ری استعما ل ہو ئی جِسے ہم “بُراق”کے نام سے جا نتے ہیں۔
یہ اپنا پہلا قدم وہا ں رکھتا تھا جہا ں اُ س کی نظر پڑ تی تھی۔
[صحیح مسلم] آ ئن اسٹائن کی تھیو ری کے مطا بق اگر کو ئی جسم رو شنی کی رفتا ر سے سفر کر ے جس کی پیما ئش کر لی گئی ہے ۔ یعنی رو شنی کی رفتار 299,792,458 m sec ہے جِسے ایسے بھی لکھا جا تا ہے۔
[c = 3 10]۔ اس رفتا ر سے سفر کر ے تو اُس جسم پر چار فوائد لاگو ہو ں گے۔

۱۔ جسم کا بڑھ جانا۔ (Mass increament)
۲۔ لمبائی کم ہوجانا۔ (Length contraction)
۳۔ وقت گز ر نے کی رفتا ر کم ہو جا نا۔ (Time dilation)
۴۔ جسم کا توا نا ئی میں اور توا نائی کا جسم میں تبد یل ہوجا نا۔(Mass & energy are interconvertible)
اب ہم آ یتِ مبا ر کہ کاجائز ہ لیتے ہیں جس میں اﷲ نے فر ما یا:
رات کے مختصر (بہت تھوڑا) لمحے میں سیر کرا ئی۔
[بنی اسرا ئیل: آیت ۱] معرا ج کے سفر پر تو آپ ﷺ نے اتنا وقت گزرا۔
* انبیا ء کرام کی جما عت کر وائی۔
* ہر آسمان پر مختلف نبیوں سے ملا قا تیں کی۔
* جنت کو دیکھا۔
* دو ز خ کو دیکھا۔
* دیدا رِ الہی کیا۔
* عذا با ت دیکھے۔
* نما زیں کم کر و ا ئیں۔
پھر ایک قلیل لمحے میں سیر کیسے ہوگئی ؟
یہا ں پر آ ئن اسٹا ئن کی تھیو ری کے قا نو ن میں سے ایک قا نو ن لا گو ہو گا جو ہم پیچھے لکھ چکے ہیں۔
یعنی جو روشنی کی رفتا ر سے سفر کر تا ہے اُ س پر وقت گزر نے کی رفتا ر کم ہو جا تی ہے۔
لیکن بُرا ق کو رو شنی کی رفتا ر سے بھی ذیا دہ تیز رفتا ر سے سفر کر رہا تھا ۔ ممکن ہے کہ اﷲ نے اُ س وقت تما م وقت کو رو ک
دیا ہو۔ کیو ں کہ رفتا ر جو اتنی تیز تھی۔

مگر ایک نظر یئے سے یہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ کیو ں کہ آ ئن اسٹا ئن کے ہی مطا بق ایک کہکشا ں (glaxy) سے
دو سر ی کہکشا ں (glaxy)میں جا نے کے لئے ایک نو ری سا ل (1 light year)کا سفر در کا ر ہو تا ہے۔
یعنی اگر کو ئی جسم مسلسل رو شنی کی رفتا ر سے ایک سال تک سفر کر تا رہے تو تب وہ ایک کہکشا ں سے دو سر ی کہکشا ں
میں دا خل ہو سکتا ہے۔
اور معرا ج کے سفر پر ہم سب جا نتے ہیں ایک کہکشا ں سے دو سر ی کہکشا ں میں سفر نہیں ہوا تھا بلکہ یہ سفر زمین سے
سا تو یں آ سما ن سے بھی اُ و پر کا سفر تھا۔
بے شک اﷲ تما م اعترا ضا ت سے پا ک ہے۔ یہ اﷲ ہی کی قدرت تھی جس نے سا تو ں آ سما نو ں کی سیر کر و ائی اور
اپنی قد رت کی نشا نیا ں بھی دیکھا ئیں۔ بے شک اﷲ سب سے بڑا ہے ۔ اور بہتر جا ننے وا لا ہے۔
اﷲ اس تحر یر سے سب کے ایما ن میں اضا فہ فر ما ئے۔ اور اس نا چیز کی ادنیٰ سی محنت کو اپنی با رگا ہ میں قبو ل فر ما ئے۔
(آ مین)

Comments are closed.

essence-of-islam.com Webutation

Follow us on Google +…!!!

Subscribe Now!!!

You Information

IP Address Checker

Clock

Live Bayanaat

This Free SMS Service Is Only For Pakistani Users! Enter your mobile number here: