subscribe
There is no God Except Allah
Apno se Apni Baten
canada goose jacke parajumpers ugo parajumpers jas ugo canada goose uk moncler outlet
canada goose jacke parajumpers ugo parajumpers jas ugo canada goose uk moncler outlet

عاشو رہ کا روزہ Fast of Ashurah

عاشو رہ کا روزہ Fast of Ashurah

عاشو رہ کا روزہ

عا شو رہ کے رو زے کی کتنی اہمیت ہے؟ کیا یہ رو زے صرف حضر ت اما م حسینؓ کی یا د میں رکھے جا تے ہیں یا پہلے
سے اس رو زے کا حکم ہے۔
(احا دیث)
حضرت عبد اﷲ بن عبا س سے رو ایت ہے کہ رسو ل ﷺ مکہ سے ہجر ت فر ما کر مد ینہ تشر یف لا ئے تو آ پ ﷺ
نے یہو د کو یو مِ عا شور ہ (۱۰ محرم)کارکھتے دیکھا۔ آ پ نے ان سے در یا فت کیا (تمھا ری مذ ہبی روا یا ت میں ) یہ
کیا خا ص دن ہے جو تم اس کا رو زہ رکھتا ہو؟ اُ نہو ں کے کہاکہ:
“ہما رے ہا ں یہ بڑ ی عظمت وا لا دن ہے ، اس میں اﷲ نے مو سیٰ ؑ اور اُ ن کی قو م بنی اسرا ئیل کو نجا ت دی تھی اور فر عو ن
اور اُ س کے لشکر کو غر ق کیا تھا تو مو سیٰ ؑ نے اﷲ تعا لیٰ کے اس انعام کے شکر میں اس دن کا روزہ رکھا تھا اس لئے ہم بھی
(ان کی پیر وی میں) اس دن رو زہ رکھتے ہیں۔”
رسو ل اﷲ ﷺ نے فر مایا:
“اﷲ کے پیغمبر مو سیٰ سے ہما را تعلق تم سے ذیا دہ ہے اور ہم ا س کے ذیا دہ حقدا ر ہیں۔ پھر رسو ل اﷲ ﷺ نے خو د بھی
عا شو رہ کا روزہ رکھا اور اُ مت کو بھی اس دن کے رو زے کا حکم دیا۔”
[صحیح بخا ری و صحیح مسلم]

اب اکثر لو گ کہتے ہیں کہ روزہ ایک نہیں رکھو، عا شو رہ (۱۰محرم) کے رو زے کے سا تھ ۹ محر م یا ۱۱ محر م کا رو زہ بھی
ملا لو! اس کے مطا بق حد یث کیا کہتی ہے ؟ دیکھتے ہیں۔
حضر ت عبد اﷲ بن عبا سؓ سے رو ا یت ہے کہ:
جب آ نحضر ت ﷺ نے یو مِ عا شو رہ میں روزہ رکھنے کو اپنا اُ صو ل و معمو ل بنا لیا اور مسلما نو ں کو بھی اس کا حکم دیا
تو بعض صحا بہ کرا مؓ سے عر ض کیاکہ:

یا رسو ل اﷲ ﷺ اس دن کو یہو د و نصا ریٰ بڑ ے دن کی حیثیت سے منا تے ہیں۔ اور خا ص ان دن ہما رے رو زے
رکھنے کے ان کے سا تھ اشتر ا ک اور تشا بہ ہو تا ہے، تو کیا اس میں کو ئی ایسی تبد یلی ہو سکتی ہے جس کے بعد یہ اشترا ک
اور تشا بہ وا لی با ت با قی نہ رہے؟
تو آ پ ﷺ نے ارشا د فر ما یاکہ:
انشا ء اﷲ ! جب اگلا سا ل آ ئیگا تو ہم نو یں (محرم)کو رو زہ رکھیں گے۔
عبد اﷲ بن عبا سؓ فر ما تے ہیں کہ اگلے سا ل کا ما ہِ محر م آ نے سے پہلے ہی رسو ل اﷲ ﷺ کی وفا ت ہو گئی تھی۔

[صحیح مسلم]

اس حد یث میں سب سے پہلی با ت یہ ہے کہ صحا بہ کر امؓ نے یہو د و نصا ریٰ سے اشترا ک اور تشا بہ عبا دت میں بھی پسند
نہیں کی اور یہی آ پ ﷺ نے بھی کہا جیسا کہ اس حد یث میں آ پ ﷺ نے فر مایا ! کہ ہم نو یں (محرم) کا رو زہ
رکھیں گے۔ یعنی آ پ ﷺ کو بھی یہ را ئے پسند آ ئی کہ یہو د و نصا ر یٰ کے سا تھ تشا بہ نہ ہو۔
ذرا سو چئے جب عبا دت میں آ پ ﷺ کو یہو د و نصا ر یٰ کی تشا بہ پسند نہیں تو صو رت و شکل میں آ پ ﷺ کو یہو د و
نصا ر یٰ کی تشا بہ کیسے بر دا شت ہو سکتی ہے؟ لہٰذا پنی صور ت و سیرت نبی پا ک ﷺ کے طر یقو ں پر لا ئیں اور محمد ﷺ
کا اُ متی ہو نے کا ثبو ت دیں۔ اور دو نو ں جہا نو ں میں کا میا بی حا صل کر یں۔
دو سری با ت یہ کہ اس حد یث میں نو یں (محرم) کے رو زے کا کہا گیا ہے۔ اس حد یث کو سا منے رکھتے ہو ئے دو
مطلب علما ء کر ام نے پیش کیے ہیں۔
ایک یہ کہ آئند ہ ۱۰ کے بجا ئے نو یں محرم کا رو زہ رکھیں گے ۔ اور اکثر علما ء نے فر ما یا کہ عا شو رہ (۱۰محرم) کے رو زے
کیسا تھ نو یں محرم کا رو زہ ملا نے کا مطلب لیا ہے۔ یا اگر کسی وجہ سے نو یں کا رو زہ نہ رکھ سکے تو ۱۰ محر م کے سا تھ گیا رہو یں ؂
محر م کا روزہ بھی ملا لیا جا ئے۔ واﷲ علم۔
فضیلت:
حضر ت عبد اﷲ بن عبا سؓ سے رو ایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ آ پ ﷺ کسی فضیلت وا لے دن کے رو زے کا بہت
ذیا دہ اہتما م اور فکر کر تے تھے۔ سوا ئے اس دن یو مِ عا شو رہ کے اور سو ا ئے اس ما ہِ مبا رک رمضا ن کے۔
[صحیح بخا ری و مسلم]

essence-of-islam.com Webutation

Follow us on Google +…!!!

Subscribe Now!!!

You Information

IP Address Checker

Clock

Live Bayanaat

This Free SMS Service Is Only For Pakistani Users! Enter your mobile number here: